بنگلورو،20اکتوبر (ایس او نیوز؍عبدالحلیم منصور) وزیراعلیٰ سدارامیا نے مرکز پر زور دیا کہ وہ ہاتھ سے بنی اشیاء کو اشیاء و خدمات ٹیکس (جی ایس ٹی) سے مستثنیٰ کرے ۔ مرکزی وزیر فائنانس ارون جیٹلی کو کل روانہ کردہ اپنے ایک خط میں سدارامیا نے کہا کہ وہ انتہائی نازک مسئلہ اٹھانے کیلئے یہ تحریر روانہ کررہے ہیں کہ جی ایس ٹی کونسل اس بات کا نوٹ لے اور ترجیحی بنیادوں پر اس کو حل کرے ۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ گرام سیوا سنگھ کی جانب سے تشکیل کردہ ایک کمیٹی سے انہیں یہ نمائندگی وصول ہوئی ہے کہ پروڈیوسر کوآپریٹیو سوسائٹیوں اور ان کے فیڈریشنس کی جانب سے ہاتھ سے تیار کردہ مختلف اشیاء کو جی ایس ٹی سے مستثنیٰ رکھا جائے ۔ سدارامیا نے مزید کہا کہ ممتاز تھیٹر آرٹسٹ پرسنا نے گذشتہ چند دنوں سے بنگلورو میں ستیہ گرہ اور بھوک ہڑتال کررکھی تھی، جس کا مقصد ہاتھ سے تیار کردہ کئی اشیاء پر جی ایس ٹی کی مخالفت ہے ۔انہوں نے کہا کہ اس طرح کی اشیاء پر جی ایس ٹی کے نفاذ سے ان بنکروں کی گزربسر پر مضر اثرات پڑے ہیں جو کہ اس طرح کی اشیاء تیار کرتے ہیں۔ اس نمائندگی پر فوری غور کرنے اور اس کا مثبت حل تلاش کرنے کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے جیٹلی کو روانہ کردہ اپنے ایک خط میں اس نمائندگی کا ذکر کرتے ہوئے اس کے نقل بھی منسلک کئے ہیں۔ دریں اثناء پرسنا نے جو گذشتہ 5دنوں سے شہر میں غیرمعینہ مدت کی بھوک ہڑتال پر تھے ' کل شام اپنا برت ختم کردیا۔ سدارامیا نے انہیں یہ یقین دہانی کروائی تھی کہ ریاستی حکومت ہاتھ سے تیار کردہ اشیاء پر صفر فیصد جی ایس ٹی کے مطالبہ کیلئے جو ستیہ گرہ کی گئی تھی وہ اس کی حمایت کرے گی، جس کے بعد انہوں نے اپنی بھوک ہڑتال ختم کردی۔ پرسنانے ہاتھ سے تیار کردہ اشیاء کو جی ایس ٹی سے مکمل طور پر استثنیٰ دینے کی مانگ کی تھی اور یہ کہا تھا کہ اگر ایسا نہیں کیا گیا تو دیہی معیشت ڈھیر ہوجائے گی۔